اہم خبریںبین الاقوامیبین الاقوامی خبریں

بحرینی عوام کے شدید اعتراض کے باوجود اسرائیلی صدر کا دورہ منامہ

اسرائیلی صدر کی منامہ آمد پر ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ جسکے باعث بحرینی حکومت کا اسرائیلی صدر کے دورے کے شیڈول کو تبدیل کرنا پڑا، تا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

گزشتہ روز اسرائیل کے صدر “اسحاق ہرتزوگ” پہلی دفعہ شدید حفاظتی حصار میں بحرین پہنچ گئے۔ جہاں دارالحکومت “منامہ” میں بحرینی وزیر خارجہ نے ان کا استقبال کیا۔ صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسحاق ہرتزوگ کا صیہونی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے بحرین کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی صدر کی منامہ آمد پر ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ جس کے باعث بحرینی حکومت کا اسرائیلی صدر کے دورے کے شیڈول کو تبدیل کرنا پڑا، تا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اُدھر بحرینی اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہم قابض حکومت کے سربراہ کے منحوس اور مذموم سفر کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس دورے سے عرب عوام، امت مسلمہ، عیسائیوں اور دنیا کے تمام حریت پسندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ بحرینی مظاہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسحاق ہرتزوگ کا دورہ آل خلیفہ حکومت کی اخلاقی تنزلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی دوران بحرین کے معروف شیعہ رہنماء شیخ عیسیٰ قاسم  نے بھی ایک ٹویٹ کیا کہ صیہونی صدر کا دورہ منامہ بحرینی حکومت کے دامن پر ایک بدنما داغ اور شرمندگی کا باعث ہے۔

شیخ عیسیٰ قاسم  نے ٹویٹ میں لکھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی غداری ہے اور اسرائیلی صدر کے مکروہ اقدامات سے بحرین کی سرزمین کو آلودہ کرنا ایک ایسی ذلت ہے، جسے ہماری عظیم قوم کبھی برداشت نہیں کرے گی۔ فلسطین کی مزاحمتی تحریک “جہاد اسلامی” نے بھی اسحٰق ہرتزوگ کے دورہ بحرین پر خاصی تنقید کی۔ اس حوالے سے جہاد اسلامی کے ترجمان “طارق سلمی”  نے کہا کہ صیہونی حکومت کے سربراہ کا دورہ بحرین، عرب ممالک اور فلسطین کاز کی توہین ہے۔ انہوں نے “اسحاق ہرتزوگ” کے دورہ بحرین کی شدید مذمت کی۔ القدس ریڈیو نے طارق سلمی کا بیان جاری کرتے ہوئے رپورٹ دی کہ اسحاق ہرتزوگ کا کسی بھی عرب یا اسلامی ملک کا دورہ، فلسطینی قوم کے دل میں خنجر اور عرب و مسلم ممالک کے اولین مسئلہ فلسطین کی تذلیل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی سربراہان مملکت کے اس طرح کے دوروں کا مقصد اپنی جارحیت اور دہشت گردی  سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس و مغربی کنارے کے باسیوں کے خلاف اپنی فورسز کے ہاتھوں قتل و غارت کے بڑھتے ہوئے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button